ممبئی 25؍ نومبر (ایس او نیوز)ہرین پانڈیا قتل معاملے میں ۱۲؍ مسلم نوجوانوں کو قتل کرنے کے الزامات سے باعزت بری کرنے والے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سی بی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل اپیل پر ۲۷؍ نومبر یعنی کے منگل کو سماعت متوقع ہے ، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنیوالی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر سے موصول ہوئی نیز ملزمین کی پیروی کے لیئے جمعیۃعلماء نے سینئر وکلاء راجو رام چندرن، امریندر شرن ، نیتاراما کرشنن و ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد ، میگرانک پربھاکر و دیگر کی خدمات حاصل کی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی جانب سے داخل کردہ اپیل پر سماعت سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراء اور جسٹس ونیت شرن کریں گے ، ۲۰۱۱ء میں ملزمین کے خلاف اپیل داخل کی گئی تھی جسے عدالت نے پہلے ہی سماعت کے لیئے قبول کرلیا تھا اور ملزمین کو نوٹس جاری کیا تھا۔
26 مارچ 2003 کو اس وقت کے ہوم منسٹر (گجرات)ہرین پانڈیاکو قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد تفتیشی ایجنسی CBIنے ۱۲؍ مسلم نوجوانوں کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ کیا تھا ، نچلی عدالت نے ملزمین کو قصور رار ٹہرایا تھا جس کے بعد جمعیۃعلماء کے توسط سے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی گئی جہاں ہائی کورٹ نے تمام ۱۲؍ ملزمین کو باعزت بری کرتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے۔
2007 ء میں پوٹا عدالت نے ملزمین محمد پرویز عبدالقیوم،شہنواز محمد گاندھی، کلیم احمد حبیب کرمی، ریحان عبدالماجد پٹھاوالا، محمد ریاض عبدالواحید سریش والا، محمد روؤف عبدالقادر، محمد سیف الدین، محمد اصغر علی،پرویز خان پٹھان اور محمد فاروق عثمان غنی کو قصور وار ٹہراتے ہوئے انہیں عمر قید اور دس سالوں کی سزائیں تجویز کی تھی جس کے بعد ملزمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہیں باعزت بری کردیا گیا تھا۔
جمعیۃ علماء احمدآباد کے ذمہ داران مفتی عبدالقیوم، مرزا نور بیگ، سلمان مسالہ والا و دیگر اس مقدمہ کی پیروی کررہے ہیں اور مقدمہ کی سماعتوں پر سپریم کورٹ میں موجود رہتے ہیں۔